کھانی چاہئے اور نہ ہمیشہ کھانی چاہئے۔ کبھی ایک ہفتہ کھاکر چھوڑ دیں اور ایک دو ہفتہ چھوڑ کر پھرکھانا شروع کریں۔ مگر ایام حمل میں قطعاً ممنوع یعنی ہر گز نہیں کھانی چاہئے۔ جب تک بچہ ہوکر دو مہینہ نہ گزر جائیں۔ اگر سرعت تنفس با اختلاج قلب ہو تو تدبیر غذا کافی ہے۔ یعنی دودھ مکھن چوزہ کا پلائو استعمال کریں۔ بہت شیرینی سے پرہیز کریں۔ شیرہ بادام۔ مقشر الائچی سفید ڈال کر پیویں۔ موسم سرما میں اسکائش ایمکیش استعمال کریں۔ یعنی مچھلی کا تیل جوسفید اور جما ہوا شہد کی طرح یا دہی کی طرح ہوتا ہے۔ بدن کو فربہ کرتاہے۔ دل کو مقوی ہے۔ پھیپڑہ کوبہت فائدہ کرتا ہے۔ چہرہ پر تازگی اور رونق اور سرخی آتی ہے۔ لاہور سے مل سکتا ہے۔ مگر میری دانست میں ان دنوں میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ کسی قدر حرارت کرتا ہے۔ ان دنوں سادہ مقوی غذائیں مکھن۔ گھی۔ دودھ اور مرغ پلائو استعمال کرنا کافی ہے اور کبھی کھبی شیرہ بادام استعمال کرنا وہ دوا یعنی گولیاں وہ ہمیشہ کے استعمال کے لئے نہیں ہے۔ ایک گولی خوراک کافی ہے۔ا گر مہندی کاپانی بھی پی سکیں تو یونہی کھا لیں۔ مگر یاد رہے کہ مہندی بھی ایک زہر کی قسم ہے۔اگر پانی پیا جائے تو صرف احتیاط ہے ایک ماشہ برگ مہندی بھگوئیں وزن کر کے بھگوئیں۔ ہر گز اس سے زہر نہ ہو۔ کیوں کہ زیادہ سخت تکلیف دہ ہے۔اس پانی کے ساتھ گولی کھائیں اوراگر پانی مہندی کا پیا نہ جائے تو عرق گائوزبان کے ساتھ کھائیں۔ ہمیشہ کثرت شیرینی سے پرہیز رکھنا ضروری ہے۔ زیادہ خیریت ہے اس وقت