نوٹ:۔ اس خط پر کوئی تاریخ نہیں اور یہ خط بذریعہ ڈاک نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ جیسا کہ اس خط پر ایک نوٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمدسے میاں کریم بخش بھیجا گیا۔ مگر دوسرے خط سے جو اس دوائی کے متعلق ہے کہ جون ۱۸۹۹ء کا ہے۔ (عرفانی) مکتوب نمبر(۲۸)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں بباعث علالت طبع چند روز جواب لکھنے سے معذور رہا۔ میری کچھ ایسی حالت ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ پیر سرد ہو کر اور نبض ضعیف ہو کرغشی کے قریب قریب حالت ہو جاتی ہے اوردوران خون تک دفعہ ٹھہرجاتا ہے۔جس میں اگر خداتعالیٰ کافضل نہ ہوتو موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں یہ حالت دو دفعہ ہو چکی ہے۔ آج رات پھر اس کاسخت دورہ ہوا۔ا س حالت میں صرف عنبر یا مشک فائدہ کرتا ہے۔ رات دس خوراک کے قریب مشک کھایا پھر بھی دیر تک مرض کا جوش رہا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ صرف خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر زندگی ہے۔ ورنہ دل جو رئیس بدن ہے۔ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔ آپ نے دوا کے بارے میں جو دریافت کیاتھا۔ ایام امید میں دوا ہرگز نہیں