بھی میری طبیعت بحال نہ تھی۔ لیکن بہرحال یہ خط میں نے لکھ دیا۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۲۰؍ جون ۱۸۹۹ء
مکتوب نمبر(۲۹)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے منظور ہے کہ مرزا خد ا بخش صاحب کی روانگی ۱۰؍ ستمبر ۱۸۹۹ء تک ملتوی رکھی جائے اور آپ کی قادیان میں تشریف آوری کے لئے میں پسند نہیں کرتا کہ ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۹ء کے پہلے آپ تشریف لاویں۔ کیونکہ ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۹ء سے پہلے سخت گرمی اورپریشانی اور بیماریوں کے دن ہیں۔ ریل کی سواری بھی ان دنوں میں ایک عذاب کی صورت معلوم ہوتی ہے اورمعدہ ضعیف اور وبائی ہو احرکت میں ہوتی ہے۔ لیکن ۲۲؍ستمبر کے بعد موسم میں ایک صریح انقلاب ہو جاتا ہے اوررات کے وقت اندر سوسکتے ہیںاور اطمینان کے ساتھ حالت رہتی ہے۔ا س موسم میں ارادہ کو۲۲؍ستمبر پر مصمم فرماویں اوراس سے پہلے موسم کچا اور سفر کرنا خطرناک ہے یہی صلاح بہتر ہے۔ کوئی ایسی تجویز ہو آپ کے لئے اس جگہ کوئی سامان تیار ہو جائے۔ خدا تعالیٰ ہر ایک شے پر قادر ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
اس خط پر کوئی تاریخ تو درج نہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ جولائی