بھروسہ رکھنا چاہئے۔ وہ دن آتا ہے کہ یہ تمام ہموم وغموم صرف ایک گزشتہ قصہ ہو جائے گا۔ آپ جب تک مناسب سمجھیں لاہور رہیں۔ خدا تعالیٰ جلد ان مشکلات سے رہائی بخشے۔ آمین۔
اپیل مقدمہ جرمانہ دائر کیا گیا ہے۔ مگر حکام نے مستغیث کی طرف سے یعنی کرم دین کی مدد کے لئے سرکاری وکیل مقرر کر دیا ہے۔ یہ امر بھی اپیل میں ہمارے لئے بظاہر ایک مشکل کا سامنا ہے۔ کیو نکہ دشمن کو وکیل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں وہ بہت خوش ہو گا اور اس کو بھی اپنی فتح سمجھے گا۔ ہر طرف دشمنوں کا زور ہے۔ خون کے پیاسے ہیں۔ مگر وہی ہو گا جو خواستئہ ایزوی ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۲؍ دسمبر ۱۹۰۶ء
مکتوب نمبر (۵۸) دستی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رات مجھے مولوی صاحب نے خبر دی کہ آپ کی طبیعت بہت بیمارتھی۔ تب میں نماز میں آپ کے لئے دعا کرتارہا۔ چند روز ایک دینی کام کے لئے اس قدر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:۔ یہ مکتوب حضرت نواب صاحب قبلہ کے ایک خط کے جواب میں ہے جوحسب ذیل ہے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم
مجھ کو اس دفعہ نزلہ