جائیں گی۔ ابتلائوں سے کوئی انسان خالی نہیں ہوتا۔ اپنے اپنے قدر کے موافق ابتلاء ضرور آتے ہیں اور وہ زندگی بالکل طفلانہ زندگی ہے جو ابتلائوں سے خالی ہو۔ ابتلائوں سے آخر خد اتعالیٰ کا پتہ لگ جاتاہے۔ حوادث دھر کاتجربہ ہو جاتاہے اور صبر کے ذریعہ سے اجر عظیم ملتا ہے۔ اگر انسان کوخداتعالیٰ کی ہستی پر ایمان ہے تو اس پر بھی ایمان ضرور ہوتا ہے کہ وہ قادر خدابلائوں کے دور کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ میرے خیال میں اگرچہ وہ تلخ زندگی جس کے قدم قدم میں خارستان مصائب و حوادث و مشکلات ہے۔ بسا اوقات ایسی گراں گزرتی ہے کہ انسان خود کشی کا ارادہ کرتا ہے۔ یا دل میں کہتا ہے کہ اگر میں اس سے پہلے مر جاتا تو بہتر تھا۔ مگر درحقیقت وہی زندگی قدرتا ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے سچا او رکامل ایمان حاصل ہوتا ہے۔ ایمان ایوب نبی کی طرح چاہئے کہ جب اس کی سب اولاد مر گئی اور تمام مال جاتا رہا تو اس نے نہایت صبر اور استقلال سے کہا کہ میں ننگا آیا اور ننگا جائوں گا۔ پس اگر دیکھیں تو یہ مال اورمتاع جو انسان کو حاصل ہوتا ہے صرف خدا کی آزمائش ہے۔ اگر انسان ابتلاء کے وقت خدا تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑے۔ تو ضرور وہ اس کی دستگیری کرتا ہے۔ خداتعالیٰ درحقیقت موجود ہے اور درحقیقت وہ ایک مقرر وقت پر دعا قبول کرتا ہے اورسیلاب ہموم وغموم سے رہائی بخشتا ہے۔ پس قوی ایمان کے ساتھ اس پر