گناہ معاف کرتا ہوں۔ سو میری صلاح یہی ہے کہ آپ اس امر سے درگزر کرو تا آپ کو خداتعالیٰ کی جناب میں درگزر کرانے کا موقعہ ملے۔ اسلامی اصول انہی باتوں کا چاہتے ہیں۔ دراصل ہماری جماعت کے ہمارے عزیز دوست جو خدمت مدرسہ پر لگائے گئے ہیں وہ ان طالب علم لڑکوں سے ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔ جن کی نسبت ابھی تک معلوم نہیں کہ نیک معاش ہوں گے یا بدمعاش۔ یہ سچ ہے کہ آپ تمام اختیارات رکھتے ہیں۔ مگر یہ محض بطور نصیحتاً للہ لکھا گیا ہے۔ اختیارات سے کام چلانا نازک امرہے۔ اس لئے خلفاء راشدین نے اپنے خلافت کے زمانہ میں شوریٰ کوسچے دل سے اپنے ساتھ رکھا تا اگر خطا بھی ہو تو سب پر تقسیم ہوجائے نہ صرف ایک کی گردن پر۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر (۵۵) ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایسے وقت آپ کاعنایت نامہ مجھ کو ملا کہ میں دعا میں مشغول ہوں اور امیدوار رحمت ایزوی حالات کے معلوم کرنے سے میری بھی یہی رائے ہے کہ ایسی حالت میں قادیان