بہت نیک اور بزرگ آدمی تھے۔ ان کے میرے پر حقوق استادی ہیں۔ میری رائے ہے کہ اب کی دفعہ آپ ان کی لمبی رخصت پر اغماض فرماویں۔ کیونکہ وہ رخصت بھی چونکہ کمیٹی کی منظوری سے تھی کچھ قابل اعتراض نہیں۔ ماسوا اس کے چونکہ وہ واقعہ( میں ) ہم پر ایک حق رکھتے ہیں اور عفو اور کرم سیرت ابرار میں سے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واعفو اوا صفحوا الا اتحبون ان یغفر اللہ لکم واللہ غفور الرحیم یعنی عفو اور درگزر کی عادت ڈالو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدابھی تمہاری تقصیر میں معاف کرے اورخداتو غفور رحیم ہے۔ پھر تم غفور کیوں نہیں بنتے۔ اس بناء پر ان کا یہ معاملہ درگزر کے لائق ہے۔ اسلام میں یہ اخلاق ہرگز نہیں سکھلائے گئے۔ ایسے سخت قواعد نصرانیت کے ہیں اور ان سے خداہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ ماسوا اس کے چونکہ میں ایک مدت سے آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان کے گناہ معاف کرتا ہوں جو لوگوں کے گناہ معاف کرتے ہیں اور یہی میرا تجربہ ہے۔ پس ایسانہ ہو کہ آپ کی سخت گیری کچھ آپ ہی کی راہ میں سنگ راہ ہو۔ ایک جگہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص فوت ہوگیا۔ جس کے اعمال کچھ اچھے نہ تھے۔ اس کو کسی نے خواب میںدیکھا کہ خداتعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اورفرمایا کہ تجھ میں یہ صفت تھی کہ تو لوگوں کے گناہ معاف کرتا تھا اس لئے میں تیرے