سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھ کو جب کسی ملازم کو موقوف کرنا پڑتا ہے تو مجھ کو بڑی کوشش و پنج ہو تی ہے اور دل بہت کڑھتا ہے۔ اس وقت بھی مجھ کو دو ملازموں کو برخاست کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ ایک قدرت اللہ خاںصاحب اور دوسرے عنایت علی صاحب۔ یہ دونوں صاحب احمدی بھی ہیں۔ اس سے اور بھی طبیعت میں بیج وتاب ہے۔ میراجی نہیںچاہتا کہ کوئی لائق آدمی ہو اور اس کو بلاقصور موقوف کر دوں۔ اب وقت یہ پیش آئی ہے کہ سید عنایت علی کوئی پانچ سال سے میرے ہاں ملازم ہیں۔ مگر کام کی حالت ان کی اچھی نہیں۔ اب تک جس کام پر ان کو میں نے لگایا ہے ۔ اس کی سمجھ اب تک ان کو نہیں آئی اور انہوں نے کوئی ترقی نہیں کی اورمیرے جیسے محدود آمدنی کے لئے ایسے ملازم کی ضرورت ہے کہ جو کئی سال کام کرسکے۔ وہ اپنا مفوضہ کام پوری طرح نہیں چلا سکے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ نیک اور دیانت دار ہیں۔ مگر کام کے لحاظ سے بالکل ندارد ہیں اور اس پانچ سال کے تجربہ نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچا دیا ہے کہ میں ان کی علیحدہ کر دوں۔ یہ میری سال گزشتہ سے منشاء تھی۔مگر صرف ا س سبب سے کہ وہ نیک ہیں۔دیانت دار ہیںا وراحمدی ہیں میں رکا تھا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ جوفائدہ ان کی دیانت سے ہے اس سے زیادہ نقصان ان کی عدم واقفیت کام سے ہوتا ہے۔ پس اب میں نہایت ہی مترددہوںکہ ان کو موقوف کردوں کہ نہیں۔ کاش وہ میرا کام چلا سکتے تو بہت اچھا ہوتا۔ ایک وقت