ہے کہ میں نے ان سے مختلف صیغوں میں کام لیا۔ مگر وہر جگہ ناقابل ہی ثابت ہوئے۔ مکتوب نمبر(۵۱)ملفوف (نواب صاحب کاخط) سیدی مولانیٰ مکرمی معظمی طبیب روحانی سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔ جو رنج اور قلق اس واقعہ سے جو ہماری بد قسمتی اور بے سمجھی سے پیش آیا ہے۔ یعنی میرے گھر سے حضور کی علالت کے موقعہ پر حاضر نہیں ہوئے۔ اب اس کے وجوہات کچھ بھی ہوں ہم کو اپنے قصور کا اعتراف ہے۔ ہم اپنی روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ اب تک جو معافی قصور کے لئے درخواست کرنے میں دیر ہوئی۔ وہ میرے گھر کے لوگوں کو یہ سبب ایسے واقعات کے کبھی پیش نہ آنے کی وجہ سے اور زیادہ حجاب واقع ہو گیا اور ان کو شرم ہر ایک سے آنے لگی میں اب خاموش رہا کہ جب تک اس جھوٹی شرم سے خودہی باز نہ آئیں گے۔ جب تک میں خاموش رہوں۔ تاکہ دل سے ان کو یہ محسوس ہو اور خود دل سے معافی چاہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک پرچہ اپنے حال کا لفافہ میں رکھ کر بھیجا ہے تاکہ حضور کی خدمت میں پیش کروں۔ پس اب عرض ہے۔ بقول برما منگر یر کرم خویش مگر از خورد ان خطا واز بزرگان عطا۔ آپ میری بیوی کا یہ قصور معاف