میں آپ کاشدائد سفر تحمل کرنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں اور کیا وجہ کہ آپ کے چھوٹے بھائی سردار ذولفقار علی خاںجو صحیح اور تندرست ہیں۔ ان تکالیف کاتحمل نہ کریں۔اگر موسم سرما ہوتا تو کچھ مضائقہ بھی نہ تھا۔ مگر یہ بے صبری اور بیجا شتاب کاری سے دور نہیں ہو سکتیں۔ صبر اور متانت اور آہستگی اور ہوش مندی سے ان کا علاج کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اس خطرناک موسم میں سفر کریں اور خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہو کر موجب شماتت اعدا ہوں۔ پہلے سفر میں کیسی کیسی حیرانی پیش آئی تھی اور لڑکے بیمار ہونے سے کس قدر مصائب کا سامنا پیش آگیا تھا۔ کیا یہ ضروری ہے کہ کمشنر کے پاس آپ ہی جائیں اور دوسری کوئی تدبیر نہیں۔ غرض میری یہی رائے ہے کہ یہ کاروبار آپ پر ہی موقوف ہے تو اگست اور ستمبر تک التوا کیا جائے اور اگر ابھی ضروری ہے تو آپ کے بھائی یہ کام کریں۔ ڈرتا ہوں کہ آپ بیمار نہ ہوجائیں۔ خط واپس ہے۔ اس وقت مجھے بہت سردرد ہے۔ زیادہ نہیں لکھ سکتا۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ‘ مکتوب نمبر(۴۹)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ‘ ونصلی علیٰ رسولہٰ الکریم