برسات اب سر پر ہے۔اگر اس وقت تکلیف فرما کر ارسال فرماویں تواس غم سے کہ ناگہانی طور پر میرے سر پر آگیا ہے مجھے نجات ہو گی ۔ مجھے ایسی عمارات سے طبعاً کراہت اور سخت کراہت ہے۔ اگر آپ کی نیت درمیان نہ ہوتی تو میں کجا اور ایسے بیہودہ کام کجا۔ آپ کی نیت نے یہ کام شروع کرایا۔ مگر افسوس اس وقت تک یہ بیکار ہے جب تک کہ اورپر کی عمارت نہ ہو۔ عمارت کے وقت تو یہ شعر نصب العین رہتا ہے۔ عمارت در سرائے دیگر انداز۔ کہ دنیا را اساسے نیست محکم خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان ۱۸۹۷ء مکتوب نمبر(۴۸)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ خداتعالیٰ آپ کوان مشکلات سے نجات دے۔ علاوہ اور باتوں کے میں خیال کرتا ہوں کہ جس حالت میں شدت گرمی کا موسم ہے اور بباعث قلنت برسات یہ موسم اپنی طبعی حالت پر نہیں اور آپ کی طبیعت پر سلسلہ اعراض اور امراض کا چلا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ درحقیقت بہت کمزور ا ور نحیف ہو رہے ہیںا ور جگر بھی کمزور ہے۔ عمدہ خون بکثرت پید انہیں ہوتا ۔ تو ایسی صورت