مکتوب نمبر(۴۷)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس وقت مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔ اس کا پڑھ کر اس قدر خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے۔ مجھے اوّل سے معلوم ہے کہ نور محمد کے لڑکے کی شکل اچھی نہیں ا ور نہ ان لوگوں کی معاشرت اچھی ہے۔اگر سادات میں کوئی لڑکی ہو۔جو شکل اور عقل میں اچھی ہو تو اس سے کوئی امر بہتر نہیں۔ا گر یہ نہ ہو سکے تو پھر دوسری شریف قوم میں سے ہو۔ مگر سب سے اوّل اس کے لئے کوشش چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو جلد ہونا چاہئے۔ا گر ایسا ظہور میں آگیا تو مولوی صاحب کے تعلقات کوٹلہ سے پختہ ہوجائیںگے اور اکثر وہاںکے رہنے کا بھی اتفاق ہو گا۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور چند ہفتہ میں یہ مبارک کام ظہور میں آئیں تو کیا تعجب ہے کہ یہ عاجز بھی اس کارخیر میں مولوی صاحب کے ساتھ کوٹلہ میں آوے۔ سب امر اللہ تعالیٰ کے اخیتار میں ہے۔ امیدکہ پوری طرح آں محب کوشش فرماویں۔ کیونکہ یہ کام ہونا نہایت مبارک امرہے۔ خدا تعالیٰ پوری کر دیوے۔ آمین ثم آمین۔
اس عاجز نے دوسو روپیہ آں محب سے طلب کیا ہے۔ انیٹوں کی قیمت اور معماروں کی اجرت میں