صورت ایسی ہو کہ عبدالرحمن کو ساتھ لے کر قادیان آجاویں۔ تو روبرو دیکھنے سے دعا کے لئے ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شفاء بخشے اوروہ آپ کے دل کا ددر دور کرے۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۵؍ مارچ ۱۹۰۴ء مکتوب نمبر(۴۶)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میںاس کام میں بالکل دخل نہیں دیتا۔ آپ کا کلی اختیار ہے۔ اس وقت مجھے وہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آتی ہے۔ انتم اعلم بدنیا کم اور سرمایہ لنگر خانہ کا یہ حال ہے کہ گھر میں دیکھتا ہوں کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ کچھ روپیہ نہیں دیا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس کاخرچ متفرق ہوتا رہا۔ میرے پاس اس وقت شائد پانچ سوروپیہ کے قریب ہوگا۔ جو لنگر خانہ کے لئے جمع تھے۔ باقی سب خرچ ہوچکا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ابتلاء ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ روپیہ بہت جمع ہوتا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں رہتا۔ اگر کوئی ان اخراجات کا ذمہ وار ہو جو ہر ایک پہلو سے ہو رہے ہیں تو وہ اس روپیہ کو اپنے پاس رکھے تو مجھے اس رنج و بلا سے سبکدوشی ہو۔ خواہ مخواہ تفرقہ طبیعت ہر وقت لگا رہتا ہے اور موجب آزار ٹھہرتا ہے۔