کہ جب کہ اس درجہ تک آپ ناراض ہیں۔ تو پھر دروازہ کا کھلا رہنا نا مناسب ہے۔ ایسے دروازے محض آمدورفت کے لئے ہوتے ہیں اورجب آمدورفت نہیں تو ایسا دروازہ ایسی ٹہنی کی طرح ہے۔ جس کو کبھی کوئی پھل نہ لگتا ہو۔اس لئے اس دروازہ کو بند کر دیا گیا۔ لیکن خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت بیمار تھے۔ اس وجہ سے آنے سے معذوری ہوئی۔اس عذر کے معلوم ہونے کے بعد میں نے وہ دروازہ کھلا دیا ہے اوردرحقیقت ایسی بیماری جس سے زندگی سے بھی بیزاری ہے کہی ایسی سخت بیماری کی حالت میں کیونکر آسکتے تھے۔ امید ہے کہ جس طرح نواب صاحب سچی ہمدردی رکھتے ہیں۔ آپ بھی اس میں ترقی کریں۔ خداتعالیٰ ہرایک آفت اور بیماری سے بچاوے۔ آمین۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر(۴۳)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سید عنایت علی صاحب کو اس نوکری کی پرواہ نہیں ہے۔ ورنہ باوجود اس قدر بار بارلکھنے کے کیا باعث کہ جواب تک نہ دیا۔ اس صورت میں آپ کو