ضعیف ہو گیا ہے۔ بسا اوقات آخری دم معلوم ہوتا تھا۔ یہی حقیت دعا ہے۔ کوئی مرے تا مرنے والے کو زندہ کرے۔ یہی الٰہی قانون ہے۔ سو میں اگرچہ نہایت کمزور ہوں لیکن میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آپ جب آویں تو پھر چند روز درد انگیز دعائوں سے فضل الٰہی کو طلب کیا جائے۔ خدا تعالیٰ صحت اور تندرستی رکھے۔ سو آپ بلا توقف تشریف لے آویں۔ اب میرے کسی اورخط کا انتظار نہ کریں۔ والسلام ۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر(۴۱)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم عزیزہ سعیدہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں نے آپ کاخط غور سے پڑھ لیا ہے اور جس قدر آپ نے اپنی عوارض لکھی ہیں غور سے معلوم کر لئے ہیں۔ انشاء اللہ صحت ہو جائے گی۔ میں نہ صرف دوا بلکہ آپ کے لئے بہت توجہ سے دعا بھی کرتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو پوری شفاء دے گا۔ یہ تجویز جو شروع ہے۔ آپ کم سے کم چالیس روز تک اس کو انجام دیں اوردوسرے وقت کی دوا میں آپ ناغہ نہ کریں۔ وہ بھی خون صاف کرتی ہے اور دل کی گھبراہٹ کو دو رکرتی ہے اورآنکھوں کوبھی مفید ہے۔ مگر آپ بیچ میں ناغہ کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ کل آپ نے دوا نہیں پی۔ ناغہ نہیں ہونا چاہئے اور نیز مصالحہ۔ مرچیں اورلونگ