مسنونہ خدا تعالیٰ پر توکل کرکے قادیان آجائیں۔ میں تو دن رات دعا کررہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اورخطرناک آثار ظاہر ہو گئے۔ اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفکیٹ کے لئے کچھ رسکپور اور کسی قدر فلنائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آویں تو بہتر ہو گا۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد
۶؍ اپریل ۱۹۰۴ء
مکتوب نمبر(۴۰)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کاخط آج کی ڈاک میں پہنچا پہلے اس سے صرف بہ نظر ظاہر لکھا گیا تھا۔ اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ توکلا علی اللہ اس ظاہرکو چھوڑ دیں۔ قادیان ابھی تک کوئی نمایاں کمی نہیں ہے۔ ابھی اس وقت جو لکھ رہاہوں ایک ہندو بیجاتھ نام جس کاگھرگویا ہم سے دیوار بہ دیوار ہے۔ چند گھنٹہ بیمار رہ کر راہی ملک بقا ہوا۔ بہرحال خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے آپ کو اجازت دیتا ہوںکہ آپ بخیروعافیت تشریف لے آویں۔ شب بیداری اور دلی توجہات سے جو عبدالرحمن کے لئے کی گئی میرا دل ودماغ بہت