ہلاک ہو چکے ہیں۔ باقی اس جگہ سب خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر(۳۹)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج کی ڈاک میں آپ کا خط مجھ کو ملا اس وقت تک خدا کے فضل و کرم اور جود اور احسان سے ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیروعافیت ہے۔ بڑی غوثان کو تپ ہو گیا تھا۔ا س کوگھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے اورماسٹر محمد دین کوتپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی ۔ اس کوبھی باہر نکال دیا ہے۔ غرض ہماری اس طرف بھی کچھ زور طاعون کا شروع ہے بہ نسبت سابق کچھ آرام ہے۔ میں نے اس خیال سے پہلے لکھا تھا کہ اس گائوں میں اکثر وہ بچے تلف ہوئے ہیں۔ جو پہلے بیمار یا کمزور تھے۔ اسی خیال نے مجھے اس بات کے کہنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ د وہفتہ تک ٹھہر جائیں یا اس وقت تک کہ یہ جوش کم ہو جائے۔ اب اصل بات یہ ہے کہ محسوس طور پر تو کچھ کمی نظر نہیں آتی۔ آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ آپ سخت تفرقہ میں مبتلا ہیں۔ اس وقت یہ خیال آیا کہ بعد استخارہ