ہے۔ بظاہر اس سفر میں چنداں تکلیف نہیں۔ کیوں کہ بٹالہ تک تو ریل کا سفر ہے اور پھر بٹالہ سے قادیان تک ڈولی ہو سکتی ہے اور گو ڈولی میں بھی کسی قدر حرکت ہوتی ہے۔ لیکن اگر آہستہ آہستہ یہ سفر کیا جائے تو بظاہر کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا اور قادیان کی آب وہوا نہ نسبت لاہور کے عمدہ ہے۔ آپ ضرور ڈاکٹر سے مشورہ لے لیں اور پھر ان کے مشورہ کے مطابق بلا توقف قادیان میں چلے آویں۔ باقی اس جگہ زور طاعون کا بہت ہو ر ہا ہے۔ کل آٹھ آدمی مرے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم کرے۔ آمین
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۱۶؍ اپریل ۱۹۰۴ء
مکتوب نمبر(۲۸)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ والمنۃ عزیز عبدالرحمن خاں صاحب کی طبیعت اب روبہ صحت ہے الحمدللہ ثم الحمد للہ اب میرے نزدیک (واللہ اعلم) مناسب ہے کہ اگر ڈاکٹر مشورہ دیں تو عبدالرحمن کو قادیان میں لے آویں۔ اس میں آب وہوا کی تبدیلی ہو جائے گی۔ ریل میں تو کچھ سفر کی تکلیف نہیں۔ بٹالہ سے ڈولی کی سواری ہو سکتی ہے۔ بظاہر بات تو یہ عمدہ ہے۔ تفرقہ دور ہو جائے گا اس جگہ قادیان میں آج کل طاعون کا بہت زور ہے۔ ارد گرد کے دیہات تو قریباً