ثواب بھی حاصل کروں۔ آج سرگردانی سے بھی فراغت ہوئی ہے اورلڑکی کو بھی بفضلہ تعالیٰ آرام ہے۔
والسلام ۔خاکسار
مرزا غلام احمد
۶؍ اگست ۱۹۰۲ء
مکتوب نمبر(۳۶)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ مضمون پڑھ کر عزیزی عبدالرحمن خاں کو پھر بخار ہو گیاہے۔ نہایت قلق ہوا۔ خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ اب میں حیران ہوں کہ اس وقت جلد آنے کی نسبت کیا رائے دوں۔ پھر دعا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شفاء بخشے۔ اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اورصرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب تک یہ ابتلا دور ہو۔ لوگ سخت ہراساں ہو رہے ہیں زندگی کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ ہر طرف چیخوں اور نعروں کی آواز آتی ر ہتی ہے۔ قیامت برپا ہے۔ اب میں کیا کہوں اور کیا رائے دوں۔ سخت حیران ہوں کہ کیا کروں۔ اگر خد اتعالیٰ کے فضل سے بخار اتر گیا ہے اور ڈاکٹر مشورہ دے دے کہ اس قدر سفر میں کوئی حرج نہیں۔ تو بہت احتیاط اور آرام کے لحاظ سے عبدالرحمن کو لے آویں۔ مگر بٹالہ سے ڈولی کا انتظام ضرور چاہئے۔ اس جگہ نہ ماجیور ڈولی بردار ملتا ہے