کا موجب ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ کسی وقت کوئی ایسی گھڑی آجائے گی کہ یہ مدعا کامل طور پر ظہور میں آجائے گا۔
اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور کامل طور پر قوت ایمان عطا فرماوے اور ہر طرح سے امن میں رکھے۔تب اس کے باقی ہموم وغموم کچھ چیز نہیں۔ میر ادل چاہتا ہے کہ آپ دو تین ماہ تک میرے پاس رہیں۔ نہ معلوم کہ یہ موقعہ کب ہاتھ آئے گا اورمدرسہ کے بارے میں انشاء اللہ استخارہ کروں گا۔ا گر کچھ معلوم ہوا تو اطلاع دوں گا۔ باقی سب خیریت ہے۔
والسلام ۔خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
مکتوب نمبر(۳۴)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم(۷؍ اگست ۱۹۰۰)نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کاتحفہ پارچات نفیس و عمدہ جو آپ نے نہایت درجہ کی محبت اور اخلاص سے عطا فرمائے تھے مجھ کو مل گئے ہیں اس کا شکریہ اد اکرتا ہوں۔ ہر ایک پارچہ کو دیکھ کر معلوم ہو تا ہے کہ آں محب نے بڑی محبت اور اخلاص سے ان کوتیار کرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بے انتہاء اور نہ معلوم کرم اور فضل آپ پر کرے اور لباس التقویٰ سے کامل طور سے اولیاء اور صلحاء کے رنگ سے مشرف