مکتوب نمبر(۳۳)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم(۲۹؍ جنوری ۱۹۰۰) نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم یہ دوبارہ ہی لکھا ہے۔ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ ہمدست مولوی محمد اکرم صاحب مجھ کو ملا اور دل سے آخر تک پڑھا گیا۔ دل کو اس سے بہت درد پہنچا کہ ایک پہلو سے تکالیف اور ہموم و غموم جمع ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے مخلصی عطا فرماوے۔ مجھ کو (جہاں تک انسان کو خیال ہو سکتا ہے) یہ خیال جوش مار رہا ہے کہ آپ کے لئے ایسی دعا کروں جس کے آثار ظاہر ہوں۔ لیکن میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور حیران ہو ں کہ باوجود یہ کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ کو ان مخلصین میں سے سمجھتا ہوں جو صرف چھ سات آدمی ہیں۔ پھر بھی ابھی تک مجھ کو ایسی دعا کا پورا موقعہ نہیں مل سکا۔ دعا تو بہت کی گئی اور کرتا ہوں۔ مگر ایک قسم کی دعا ہوتی ہے جو میرے اختیار میں نہیں۔ غالباً کسی وقت کسی ظہور میں آئی ہو گی اور اس کااثر یہ ہو اہو گا کہ پوشیدہ آفات کو خدا تعالیٰ نے ٹال دیا۔ لیکن میری دانست میں ابھی تک اکمل اور اتم طور پر ظہور میں نہیں آئی۔ مرزا خدا بخش صاحب کا اس جگہ ہونا بھی یا ددہانی