مکتوب نمبر(۳۲)ملفوف
اللہ ۹؍ نومبر ۱۸۹۹ء
محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پانچ سو روپیہ کا نوٹ اور باقی روپیہ یعنی ……۷۵ پہنچ گئے۔ جزاکم اللہ خیرا لجزاء دو آدمی جو نصیبین میں بر فاقت مرزا خدا بخش صاحب بھیجے جائیںگے۔ ان کے لئے پانچ سو روپیہ کی ضرورت ہو گی۔ لہذا تحریر آں محب اطلاع دی گئی ہے کہ پانچ سو روپیہ ان کی روانگی کے لئے چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ نومبر ۱۸۹۹ء تک آں محب تشریف لائیں گے باقی سب خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد از قادیان
نوٹ:۔اس خط میں نواب صاحب کے آنے کی جو تاریخ لکھی ہے۔ وہ صاف پڑھی نہیں گئی۔ غالباً آخر نومبر کی کوئی تاریخ ہو گی نصیبین کا مشن بعد میں بعض مشکلات کی وجہ سے بھیجا نہ جاسکا۔ گو اس مقصد کو اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا۔
اس خط پر جیسا کہ حضرت کا عام معمول تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی نہیں لکھا۔ مگر وہ نشان جس کے گرد میں نے حلقہ دے دیا ہے۔ جواللہ پڑھا جاتا ہے۔ درج ہے۔ بہرحال آپ نے بسم اللہ ہی اس کو شروع کرفرمایا ہے۔ (عرفانی)