ہروقت ہاتھ نہیں آتے۔ کیا تعجب کہ خداتعالیٰ آپ کی اس خدمت سے آپ پر راضی ہو جائے اور دین اور دنیا میں آپ پر برکات نازل کرے کہ آپ چند ماہ اپنے ملازم خاص کوخد اتعالیٰ کاملازم ٹھہرا کر اور بد ستور تمام بوجھ اس کی تنخواہ اورسفر کا خرچ اپنے ذمہ پر رکھ کر اس کو روانہ نصیبین وغیرہ ممالک بلا و شام کریں۔ میرے نزدیک یہ موقعہ ثواب کا آپ کے لئے وہ ہو گا کہ شائد پھر عمر بھر ایسا موقعہ ہاتھ نہ آوے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جانے سے پہلے دس بیس میرے پاس رہیں تا وقتاً فوقتاً ضروری یا داشتیں لکھ لیں۔ کیونکہ جس جگہ جائیں گے وہاں ڈاک نہیں پہنچ سکتی۔ جو کچھ سمجھایا جائے گا پہلے ہی سمجھایا جائے گا اور میرے لئے یہ مشکل ہے کہ سب کچھ مجھے ہی سمجھانا ہوتا ہے اور ابھی تک ہماری جماعت کے آدمی اپنے دماغ سے کم پید اکرتے ہیں۔ سو ضروری ہے کہ دو تین ہفتہ میرے پاس رہیں اور میں ہر ایک مناسب امر جیسا کہ مجھے یا د آتا جائے ان کی یاداشت میں لکھا دوں۔ جس وقت آپ مناسب سمجھیں ان کو اس طرف روانہ فرمادیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۹ء تک آپ قادیان میں ضرور تشریف لاویں گے۔ زیادہ خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۲۹؍ اگست ۱۸۹۹ء