پڑی ہیں۔ جسیے مشک۔ عنبر۔ نرلسبی۔ مروارید۔ سونے کاکشتہ۔ فولاد یا قوت احمر۔ کونین۔ فاسفورس۔ کہربا۔ مرجان۔ صندل۔ کیوڑہ۔ زعفران یہ تمام دوائیں قریب سے کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ۔ مقوی جگر۔ مقوی معدہ۔ مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کاتیا ر کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یا قوت احمر ہے۔ا گر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا۔ بہرحال یہ دوا خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو گئی ہے گو بہت ہی تھوڑی ہے۔ لیکن اس قدر بھی محض خدا تعالیٰ کی عنایت سے تیار ہوئی۔ خوراک اس کی اوّل استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ تاگرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور ثبورات اور جذام اور ذبابیطس اور انواع و اقسام کے زہر ناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کو ایک عجیب اثر ہے۔ سرخ گولیاں میں نے نہیں بھیجی۔ کیونکہ صرف بواسیر اور جذام کے لئے ہیں اور ذیابیطیس کو بھی مفید ہے۔ا گر ضرورت ہو گی تو وہ بھی بھیج دوں گا موجود ہیں۔
مرزا خد ابخش کونصیبین میں بھیجنے کی پختہ تجویز ہے۔ خداتعالیٰ کے راضی کرنے کے کئی موقعے ہوتے ہیں۔ جو