آنے کی علت غائی ہے اور نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور نجاز کے رنگ میں ہیں۔ رسالت لعنت عرب میں بھیجے جانے کو کہتے ہیںاور نبوت یہ ہے کہ خد اسے علم پا کر پوشیدہ باتوں یا پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا۔ سو اس حد تک مفہوم کو زہن میں رکھ کر دل میں اس کے معنی کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے۔ مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں۔ یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خداتعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ ا س جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔ کیو نکہ ہماری کوئی کتاب بجز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمار ا کوئی رسول بجز محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے اور یا د رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خادم اسلام ہو نے کے اور کوئی دعویٰ بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے۔ وہ ہم پر افتراء کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم کے ذریعہ فیض برکات پاتے ہیں اورقرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں فیض