مرا د ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا اور نبی کے لفظ سے صرف اس قدر مراد ہے کہ خد ا سے علم پا کر پیشگوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا۔ سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھ لینا چاہئے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین او ر اس آیت کاانکار کرنا یا استحفاف کی نظر سے اس کودیکھنا درحقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔ جو شخص انکار میں حد سے گزر جاتا ہے۔ جس طرح کہ وہ ایک خطرناک حالت میں ہے۔ ایسا ہی وہ بھی خطرناک حالت میں ہے۔ شیعوں کی طرح اعتقاد میں حد سے گزر جاتا ہے۔
جاننا چاہئے کہ خداتعالیٰ اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا ہے اور ہم محض دین اسلام کے خادم بن کر دنیا میں آئے اوردنیا میں بھیجے گئے نہ اس لئے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور دین بناویں۔ ہمیشہ شیاطین کی راہ زنی سے اپنے تیئں بچانا چاہئے اوراسلام سے سچی محبت رکھنی چاہئے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو پھیلانا چاہئے۔ ہم خادم دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے