کے آخر یا اگست ۱۸۹۹ء کے شروع کا ہے۔ حضرت اقدس نے جو خواہش نواب صاحب کے لئے مکان کی فرمائی تھی۔ خداتعالیٰ نے وہ بھی پوری کر دی۔ (عرفانی)
مکتوب نمبر(۳۰)ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حال یہ ہے اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کوجو الہام ہو اہے اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آگیاہے۔ جیسا کہ یہ الہام ھوالذی ارسل رسولہ یالھدی و دین الحق اورجیساکہ یہ الہام جری اللہ فی خلل لانبیاء اور جیسا کہ یہ الہام دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔
نوٹ:۔ایک قرات اس الہام کی یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک قدیر آیا اور یہی قرات براہین احمدیہ میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرات درج نہیں کی گئی۔
ایسے ہی بہت سے الہام ہیں۔ جن میںاس عاجز کی نسبت نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے۔ جو ایسا سمجھتا ہے۔ جو اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت مراد ہے۔ جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔ بلکہ رسول کے لفظ سے تو صرف اس قدر