کی یاد ۔ حضرت چودھری رستم علی صاحب مغفور نے بھی اس کا یک جواب لکھا اور یہ جواب گویا حضرت اقدس کی زبان سے دیاہے اور دنیا اس سے غافل رہی۔ مگر میںآج ۲۷ برس کے بعد اس کے بعض اشعار کو پبلک کرتا ہوں کہ اسی کی امانت ہے۔(عرفانی)
خضر سے چھپ کے کہہ رہا ہوں میں تشنہ کام مئے فنا ہوں میں
یہی ہر اک سے کہہ رہا ہوں حق سے خضر رہ خدا ہوں میں
وہ مرے گا چھٹیگا جو مجھ سے فانیوں کے لئے بقا ہوں میں
ہم کلامی ہے غیرت کی دلیل خاموشی پر مٹا ہوا ہوں میں
میں تو خاموش تھا اور اب بھی ہوں ہاں مولا سے بولتا ہوں میں
ہم کلامی جو غیرت ہے تو ہو پیرو احمد خدا ہوں میں
کانپ اٹھتا ہوں ذکر مریم پر وہ دل درد آشنا ہوں میں
آشنا اور درد جھوٹی بات آتیرے درد کی دوا ہوں میں
تنکے چن چن کر باغ الفت کے آشیانہ بنا رہا ہوںمیں
تنکے تنکے ہوا آشیاں تیرا ایک جھونکے میں آ آپناہ ہوں میں
گل پر مردہ چمن ہوں مگر رونق خانہ صبا ہوں میں
گل شاداب باغ احمد ہوں رونق طانہ خدا ہوںمیں
کارواں سے نکل گیا آگے مثل آوازہ درا ہوں میں
مارا جائے گا توجو کہنا ہے ترا کارواں سے نکل گیا ہوں میں
تاکہ بے خوف موت سے ہوں مجھ میں آ کارواں سرا ہوں میں