دست واعظ سے آج بن کے نماز کس ادا سے قضاء ہوا ہوں میں یہ اور ہے کوئی قضاء کی نماز اس کو ہرگز نہ مانتا ہوں میں نہ قضاء ہو کھبی کسی سے ہرروز اس غرض سے کھڑا ہوا ہوں میں مجھ سے بیزار ہے دل زاہد اس غرض سے کھڑا ہوا ہوں میں مومنوں نے ہے مجھ کو پہنچانا رندکی آنکھ سے چھپا ہوں میں پاس میرے کب آسکے اوباش دیدہ حود کی حیا ہوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر آپ نے درد دل کا اظہار کیا اور حوالہ قلم و کا غذ کردیا۔ کاغذ پر کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ ان اشعار میں سے چند کا انتخاب ذیل میں کرتا ہوں۔ اس سے چودھری صاحب مرحوم و مغفور کا لاہور کے متعلق بھی خیال ظاہر ہوجاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جو عشق و محبت انہیں تھی۔ اس نے زیادہ دیر تک آپ سے جدا نہ رہنے دیا اور ایک سال کے اندر ہی آقا کے قدموں میں پہنچا دیا۔(عرفانی) اے حضرت اقدس اب کہاں ہو آنکھوں سے میری کہاں نہاں ہو او جہل ہو نظر سے جب کہ خورشید تاریک نہ کس طرح جہاں ہو