رکھتا ہوں اور نہ اس ضرورت سمجھتا ہوں ۔ بلکہ میں تو اپنے کلام المحبوب محبوب الکلام سمجھتا ہوں۔ مجھ کو ان سے خد اتعالیٰ کی رضا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں ہوکر محبت تھی اور ان کی ادا پسند تھی۔ ان کے کلام کی داد جب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام دے چکے ہیں۔ تو اس سے بڑھ کر ان کی سعادت کیا ہو گی۔ میں چوہدری صاحب مرحوم کے کلام کے انتخاب میں اپنے نبقطہ خیال کو مدنظر رکھتا ہوںاور یہ بطور نمونہ ہے۔
خطاب بہ اقبال
ڈاکٹر سر اقبال آج علمی مصروف ہیں۔ کسی زمانہ میں وہ سلسلہ عالیہ سے محبت و اخلاص کا تعلق رکھتے تھے۔ بلکہ جب ایف۔اے میں پڑھتے تھے۔ تو سلسلہ کے بعض معازین کا جواب بھی نظم میں آپ نے دیا تھا۔ آپ کے خاندان کے بعض ممبر اسی سلسلہ میں شامل ہونے کی عزت و سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ مخزن نمبر ۲ جلد ۳ بابت ماہ مئی ۱۹۰۲ء کے صفحہ ۴۸ پر سر اقبال نے جو اس وقت اقبال تھے۔ ایک نظم بیعت کے جواب میں شائع کی تھی۔ ڈاکٹر اقبال کے کسی شفیق ناصح نے انہیں بیعت کی تحریک کی تھی۔ اس کا جواب انہوں نے نظم میں مخزن کے ذریعہ شائع کیا۔ سلسلہ کے گراں قدر بزرگ میرے اور ڈاکٹر اقبال کے مکرم حضرت میر حامدشاہ صاحب ؓ نے بھی انہیں ایام میں اس کا جواب منظوم نہایت لطیف شائع فرمایا اور ڈاکٹر اقبال کو ان کی ایک رویا