میں نے پسند کیا کہ پہلے اس خط کو درج کردوں۔ پھر حضرت کا اصل مکتوب جو اس کے جواب میں ہے۔(عرفانی) (چوہدری رستم علی صاحب کا خط) بسم اللّٰہ الرحمن الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بحضور پر نور جنا بناء دینا حضرت مرزا صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سرفراز نامہ حضور کا صاد رہوا۔باعث افتخار ہوا۔ آج تک اشتہا رکوئی بھی اس عاجز کے پاس قادیان سے صادر نہیں ہوا۔ امید وار کہ براہ نوازش دو دو چار چار کاپیاں مرحمت فرمائی جائیں۔ مولوی محمد علی صاحب کی بابت گورداسپور سے جو جواب آیا۔ اس کی بابت سے پہلے نیاز نامہ میں عرض کر چکا ہوں۔ یعنی اس میں جواب سمجھنا چاہئے۔ اب رہا یہاں پر جو ہمارے سر دفتر صاحب خوہشمند ہیں۔ ان کی دو لڑکیاں ہیں اگر ان میں سے کوئی پسند آجائے تو بابو مذکورہ بہت خوش ہو سکتا ہے۔مگر اس کی متلون مزاجی پر مجھے پورا اعتماد نہیں ہے۔ یہ لشکری لوگ ہیں۔ گو شریعت کی پابندی کا دعویٰ ہے۔ مگر وقت پر آکر ایسی ایسی شرائط پیش کرتے ہیں کہ جو مشکل ہوں مثلاً مہر کی تعداد بہت زیادہ۔ مگر اس کی لڑکیوں میں سے کوئی پسند آجائے تو پھر ایسی شرائط پہلے ہی طے کر لی جاویں۔ میری حالت بہت خراب ہے۔ گناہوں میں گرفتارہوں۔ کیاکروں کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔ سوائے اس کے کہ خد اوند کریم اپنا فضل شامل حال کرے۔