ہے۔ کہ آخر کار لوگ رشتہ سے کیوں انکار کریں توکتنے او رعمدہ رشتے اسی انتظار میں ان کے ہاتھ سے چلے گئے۔ یہ ایسا طریق ہے کہ خواہ مخواہ ایک شخص پر ظلم ہو جا تاہے۔ جب اسی انتظار میں دوسرے لوگ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ چنانچہ بعض ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ تو کس قدر یہ امر باعث تکلیف ہے۔ لڑکی والے بعض اوقات دس روز بھی توقف ڈالنا نہیں چاہتے۔ بلکہ توقف سے وہ لاپروائی سمجھتے ہیں۔ اس لئے ناحق نقصان ہوجاتا ہے۔ مناسب ہے کہ آپ رجسٹری کرواکر ایک مفصل خط لکھ دیںکہ وہ ایک شریف او رمہذب ہیں۔ آپ کے لئے انہوں نے دوسرے کئی رشتوں کو ہاتھ سے دیا ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ ا ب آپ اپنے جواب باصواب سے جلد ان کو مسرورالوقت کریں اور پھر اگر وہ کسی ملازمت کے شغل میں لگ گئے تو فرصت نہیں ہو گی یہی دن ہیں کہ جن میں وہ اپنی شادی کرانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی پہلی شادی کاذکر درمیان میں آئے تو آپ کہہ دیں کہ پہلی شادی تھی۔ وہ رشتہ طلاق کے حکم میں ہے۔ اس سے وہ کچھ تعلق نہیں چاہتے او رشاید طلاق بھی دے دی ہے۔ غرض اس کا جواب آپ دوسری طرف سے بہت جلد لے کر جہاں تک ممکن ہوسکے بھیج دیں۔ میں ڈرتا ہوکہ یہ توقف ان کی اس طرف کے لئے بہت حرج کا باعث نہ ہو جائے۔ زیادہ خیریت ہے۔
والسلام
(۲۷۲) ملفوف
حضرت اقدس نے یہ مکتوب چوہدری صاحب کے مرسلہ خط کی پشت پر ہی لکھ دیا ہے اور اس طرح پر وہ اصلی خط بھی محفوظ ہے۔