غرض سب پھینک دینے کے لائق ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس قدر تکلیف اٹھائی اور خرچ کیااور ضائع ہوا۔ مگر پھر بھی ضائع نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ کو بہرحال ثواب ہو گیا۔ اب یہ خط اس لئے دوبارہ لکھتا ہوں کہ آپ دوبارہ خرچ سے بچے رہیں۔ اگر آپ کا دوبارہ بھیجنے کا ارادہ ہو تو سردنی کا آم جو سبز اور نیم خام اور سخت ہو کر بھیجیں۔ یہ آم ہر گز نہ بھیجیں ۔ زیادہ خریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
یکم جولائی ۱۸۹۹ء
خط اس غرض سے رجسٹری کر اکر بھیجا گیاہے کہ تسلی ہو کہ پہنچ گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ایسے ہی آم بھیج دیںاو رناحق اسراف ہو۔بجز اس قسم کے جس کو سردنی کہتے ہیں اور کوئی قسم روانہ نظر فرمائیں اوروہ بھی اس شرط سے کہ آم سبز اور نیم خام ہوں۔ تا کسی طرح ایسی شدت گرمی میں پہنچ سکیں۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
(۲۷۱) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
امید ہے کہ اشتہار ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء جس کے ساتھ جلسۃ الوداع کا بھی ایک پرچہ ہے۔ آپ کے پاس پہنچ گیا ہو گا۔ اب باعث تکلیف وہی یہ ہے کہ اخویم مولوی محمد علی صاحب کی نسبت جو گورداسپور میں تحریک کی گئی تھی۔ اس کو حد سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور درحقیقت اس طرح پر مولوی صاحب کا بڑ ا حرج ہوگیا