رہیں۔ افسوس کہ آپ کو عقیقہ پر رخصت نہ مل سکی۔ خیر دوسرے موقعہ پر بھی مسمی عبدالجبار گرفتار ہو کر گورداسپور میں آگیاہے۔ کہتے ہیں کہ پھر مقدمہ بنایا جائے گا۔ خدا تعالیٰ ہر ایک بہتان سے بچاوے۔ مثل سے کسی قدر صفائی سے ظاہر ہے کہ پہلا اظہار عبدالجبار کا جھوٹا تھا۔ جو پادریوں کی تحریک سے لکھا گیا ہے۔ مگر پھر تفتیش ہو گی کہ کون سا اظہار جھوٹا ہے۔ شاید اب پادریوں کو پھر کسی جعلسازی کاموقعہ ملے اور پھر اس کو طمع دے کر یہ بیان لکھو ادیں کہ پہلا اظہار ہی سچا ہے اور دوسرا جھوٹا۔ کچھ معلوم نہیں کہ ایسا صاف مقدمہ فیصل شدہ پھر کیوں دائر کیا گیاہے۔ سزا اگر عبدالجبار کو دینا ہے توپہلا حاکم دے سکتا ہے اورسزا دینے کے لئے بہت سی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ عبدالجبار خود اقرار لکھاتا ہے۔ یعنی کپتان ڈگلس صاحب کے روبرو کا پہلا اظہار میرا جھوٹا ہے۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۳۰؍ جون ۱۸۹۹ء (۲۷۰) ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پہلا خط میں نے آم پہنچنے سے پہلے لکھا تھا۔ اب اس وقت جووقت عصر ہے۔ آم آئے اور کھولے گئے تو سب کے سب گندے اور سڑے ہوئے نکلے اور جو چند خوبصورت بیداغ معلوم ہوئے ان کا مزہ بھی تلخ رسوت کی طرح ہو گیا تھا۔