مرزا غلام احمد عفی عنہ
۷؍فروری ۱۸۹۹ء
نوٹ:۔ میرا خیال ہے کہ ۲۷؍فروری ۱۸۹۹ء ہے۔ جلدی سے ۷؍فروری ۱۸۹۹ء لکھا گیا ہے۔ (عرفانی)
(۲۶۸) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بلٹی آم پہنچ کر آج دونوں چیزیں آم اور بسکٹ میرے پاس پہنچے۔ جزاکم اللّٰہ خیرا۔ افسوس کہ آم کل کے کل گندے اور خراب نکلے۔ اسی خیال سے میںنے رجسٹری شدہ خط آپ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ تا ناحق آپ کانقصان نہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آم اس خط کے پہنچنے سے پہلے روانہ ہو چکے تھے۔ افسوس کہ اس قدر خرچ آپ کی طرف سے ہوا۔ خیر انما الا عمال بالینات۔ کل میرے نام پر ایک پروانہ تحصیل سے آیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ پتہ بتائو کہ عبدالواحد اور عبدالغفور اور عبدالجبار کہاں ہیں۔ خد اجانے اس میں کیا بھید ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ
(۲۶۹) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آم مرسلہ آنمکرم پہنچے۔ جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء۔ اگر ممکن ہو سکے تو اسی قدر اور آم بھیج دینا ۔ کیونکہ مہمان عزیز بہت ہیں۔ بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ اگر کوئی چیز آوے اور بعض محروم