مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میری گواہی کے لئے رانا جلال الدین خان صاحب عدالت میں طلب کئے گئے ہیںاور ۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء تاریخ پیشی مقرر ہے اور چونکہ محمد حسین نے صاف طور پر لکھوادیا ہے کہ ظن غالب ہے کہ لیکھرام کے قاتل یہی ہیں۔ اس لئے لیکھرام کی مسل بھی طلب ہوئی ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
نوٹ:۔ اس خط پر تاریخ کوئی نہیں۔ مگر تسلسل خط وکتابت سے واضح ہے کہ یہ ۱۶؍فروری ۱۸۹۹ء کے بعد کا ہے۔(عرفانی)
(۲۶۷) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء کو مقدمہ پیش ہوکر بغیر لینے گواہوں کے مجھے بری کیا گیا۔ استفاثہ کی طرف سے گواہی گذر چکی تھی اور فریقین کے لئے دو نوٹس لکھے گئے اور ان پر دستخط کرائے گئے۔ جن کا یہ مضمون تھا کہ نہ کسی کی موت کی پیشگوئی کریں گے اور نہ دجال کذاب کافر کہیں گے اور نہ قادیان کو چھوٹے کاف سے لکھیں گے اور نہ بٹالہ کو طاء کے ساتھ اورنہ گالیاں دیں گے اور ہدائت کی گئی کہ یہ نوٹس عدالت کی طرف سے نہیں ہے اور نہ اس کو مجسڑیٹ کا حکم سمجھنا چاہیئے۔ صرف خدا کے سامنے اپنا اپنا اقرار سمجھو۔ قانون کو اس سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ ہمارا کچھ دخل نہیں۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کو ان کی گندی گالیوں سے تکلیف پہنچی ہے ۔ آپ اختیار رکھتے ہیں کہ بذریعہ عدالت اپنا انصاف لیں اور مثل خارج ہوکر داخل دفتر کی گئی۔
والسلام
خاکسار