مکتوب نمبر ۶۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مبلغ دو سو روپیہ آنمکرم مجھ کومل گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ وہ معاملہ رحمت اور فضل اور کرم کرے جو آپ اس راہ میں اور اس کے بندہ کی مددمیں کررہے ہیں آمین ثم آمین۔ اس جگہ محمد حسین بٹالوی اور اس کے گروہ کی طرف سے مقدمہ میں فتح پانے کے لئے بڑی تیاری کررہے ہیں اور وکیلوں کو دینے کے لئے شہروں میں اس کے لئے چندہ جمع ہو رہا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے دوسری قوموں سے بھی اتفاق کر لیا ہے بظاہر مقدمہ ایک خطرناک صورت میں ہو گیا ہے مگر خد اتعالیٰ کے کام اور انسان کے کام الگ ہیں اب پانچ جنوری ۹۹ء قریب آگئی ہے جو تاریخ پیشی ہے میں نے آنمکرم کے بلانے میں ایک تواس وجہ سے تار نہیں بھیجا کہ غالباً راہ میں دقتیں ہیں۔ جالندھر کے ضلع میں بھی طاعون ہے دوسرے یہ بھی خیال رہا ہے کہ اس مقدمہ میں معلوم نہیں کہ قادیان رہوں یا انفصال مقدمہ تک حاضری کچہری رہنا پڑے یہ ایک آخری ابتلا ہے جومحمد حسین کی وجہ سے پیش آگیاہے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے راضی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ مخالفوں نے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے اور خد اکے کام فکر اور عقل سے باہر ہیں زیادہ خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۲؍ جون ۹۹ء مکتوب نمبر ۶۶ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا میں باوجود علالت طبع کے اور باوجود ایسی حالتوں کے کہ میں نے خیال کیا ہے کہ شاید زندگی میں چند دم باقی ہیں آپ کو دعا کرنے میں فراموش نہیں کیا بلکہ انہیں حالات میں نہایت درد دل سے دعا کی ہے اور اب تک میرے جوش میں کمی نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس خط کے پہنچنے تک کتنی دفعہ مجھ کودعا کا موقعہ ملے گا اور میں باور نہیں کرتا کہ یہ دعا میری قبول نہ ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے آپ اس گھڑی کے یقین دل سے منتظر رہیں جبکہ دعائوں کی قبولیت ظاہر ہو ایک بڑے یقین کے ساتھ انتظار کرنا بڑا اثر رکھتا ہے میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ آپ کے لئے میرے کس توجہ سے دعا کرتا ہوں یہ حالت خد ا تعالیٰ کو معلوم ہے ان دنوں میں میری طبیعت بہت بیمار ہو گئی تھی ایک دفعہ مرض کا خطرناک حملہ بھی ہوا تھا۔ مگر شکر باری تعالیٰ ہے کہ اس وقت میں بھی میں نے بہت دعا کی ہے او راب تک طبیعت بہت کمزور ہے اس لئے کتاب کی تالیف میں بھی حرج ہے۔ ایک نہایت ضروری امر کے لئے آپ کولکھتا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے سنا ہے کہ مدراس میں ایک میلہ یوز آسف کا سال بسال ہوا کرتا ہے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ میلہ کرتے ہیں وہ یوز آسف کس کو کہتے ہیں اور کس مرتبہ کا انسان اس کو سمجھتے ہیں اور نیز ان کاکیا اعتقاد ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور کس قوم میں سے لنہا۔ او رکیا مذہب رکھتا تھا اور نیز یہ کہ کیا اس جگہ کوئی یوزآسف کا مقام