جس کا اصل محرک محمد حسین بٹالوی ہے یہ مقدمہ بظاہر سخت خطرناک ہے کیونکہ پولیس کے مقرر ملازم اس مقدمہ کے پروکار ہیں جو مقدمہ کے بنانے کی سعی کر رہے ہیں اور محمد حسین بٹالوی بھی کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح جھوٹے گواہ پیش کر کے مجھے زیر مواخذہ کرا دے چونکہ ان مخالفوں کی جماعت بڑی ہے۔ لاکھوں ہیں اس لئے محمد حسین کے لئے چندے جمع ہو رہے ہیں۔ تابیر سٹرا کئی انگریز وکیل کر کے جعلی الزاموں کی میری نسبت ثابت کرا دے ہماری جماعت غریبوں کی جماعت ہے لاہور امرتسر سیالکوٹ راولپنڈی پنجاب کے شہروں میں محمد حسین بٹالوی کے لئے ایک رقم کثیر جمع ہوتی جاتی ہے غالباً دہلی میں بھی نذیر حسین کی معرفت یہ چندہ ہو گا ہم اپنا کام خدا تعالیٰ کا سونپتے ہیں میں نے اوّل خیا ل کیا تھا کہ شاید آنمکرم کی تحریک سے مدراس میں کسی قدر چندہ جمع ہو مگر پھر مجھے خیال آیا کہ ہر انسان اس ہمدردی کے لائق نہیں۔ جب تک انسان سلسلہ میں داخل ہو کر جاں نثار مرید نہ ہو۔ تب تک ایسے واقعات روح پر قوی اثر نہیں کرتے دلوں کا خد امالک ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے باوجود اس تفرقہ کے اور ایسی حالت کے جو قریب قریب تباہی کے ہے آپ کو وہ اخلاص بخشا ہے کہ جو وفادار جان نثار جو انمرد میں ہوتا ہے میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے آپ ہر وقت مالی امداد میں مشغول ہیں اس لئے ایسے چندہ سے آپ مستشنیٰ ہیں آپ کا بہت سا چندہ پہنچ چکا ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۹۸ء مکتوب نمبر ۶۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تار مدراس سے بخروعافیت میرے پاس پہنچ گئی۔ الحمداللہ کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے راہ کی آفات سے بچا کر سلامتی کے ساتھ گھر میں پہنچا دیا اس طرح میں جناب الٰہی میں دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو معاملات تشویشات سے بھی رہائی بخش کر ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو اور اپنی مرضی کی راہوں پر چلاوے آمین ثم آمین۔ ا مید رکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اپنے حالات سے مطلع فرماتے رہیں گے۔ بخدمت دیگران سلام مسنون۔ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵؍ مئی ۹۸ء مکتوب نمبر ۶۴ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ہر طرح پر امید اللہ جلشانہ کے فضل پر امید رکھنا چاہئے۔ اگر کوئی تاجر تباہ حالت ہو گیا ہو تو ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ جد ا ہے کسی کی تباہی اور سرسبزی محض ہداتفاقات سے نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے میں جیسا کہ آپ کے روبرو آپ کے لئے دعا میں مشغول تھا۔ ایسا ہی آپ کے بعد بھی مشغول ہوں اور ہر طرح پر ہم اللہ جلشانہ کی ذات پر نیک امید رکھتے ہیں کہ حالات خیریت آیات سے اطلاع بخشتے رہیں اور اس جگہ تا دم تحریر ہذا خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۶؍ مئی ۹۸ء