آپ کی تشویشات کو اللہ تعالیٰ دور فرماوے اور اس طرف یہ حال ہے کہ جیسے ایک گدا کچھ سوال کر کے اسی دروازہ پر جم کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب تک کہ اندر سے اس کو کچھ دیا نہ جائے یہی حال ہمارا آپ کے لئے ہے آپ اگر بے قرار ہوں یا نہ ہوں ہماری طرف سے سلسلہ دعا کا جاری ہے اور جناب الٰہی کے آستانہ سے امید کی جاتی ہے کہ رات کو یا دن کو یہ بشارت ہم کو ملے زمین و آسمان پید ا کرنے والے کے آگے یہ آرزوئیں کیا چیز ہیں اس کے ایک نظر …… سے ہزاروں پیچیدہ کام سہل ہو جاتے ہیں اس طرف اب بظاہر طاعون سے امن ہے پھر بعد میں کوئی واردات نہیں ہوئی زیادہ خیریت ہے۔
والسلام خاکسار مرز اغلام احمد عفی عنہ ۱۲؍ دسمبر ۹۸ء
مکتوب نمبر ۶۱
مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ سلمہ۔ السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔
آپ کاانتظار ہے اور اب تک ہے نہ معلوم کیا بباعث ہوا کہ آپ تشریف نہ لائے دعا انتہا تک پہنچ گئی ہے آج صبح کے وقت مجھ کو یہ الہام ہوا۔ قاد رہے وہ بارکاہ ٹوٹا کام بنا دے بنا بنا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔ امید ہے کہ اپنے حالات خیریت سے اطلاع دیں گے۔
والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۱؍ دسمبر ۹۸ء
مکتوب نمبر ۶۲
مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ سلمہ۔ السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔
عنایت نامہ آنمکرم اور نیز مبلغ ایک سو روپیہ مجھ کو پہنچا جزاکم اللہ احسن الجزا۔ میں آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوں آپ کا ہر ایک خط جس میں تفرقہ خاطر اورخوف و خطر کا ذکر ہوتا ہے۔ پہلی دفعہ تو میری پر ایک دردناک اثر ہوتا ہے مگر پھر بعد اس کے جب اللہ جلشانہ کی طاقت اور قدرت اور اس کے دو الطاف کریمانہ جو میرے پر ہیں۔ بلا توقف یاد آجاتی ہے۔ تو وہ غم دور ہو کرنہایت یقینی امیدیں دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ آپ کے لئے میرے دل میں عجب جوش تضرع اور دعا ہے۔ اگر عمیق مصالح جس کاعلم بشر کو نہیں ملتا توقف کونہ چاہتیں تو خدا تعالیٰ کے فضل وکر م سے امید تھی کہ اس قدر توقف ظہور میں نہ آتا۔ بہرحال میں آپ کی بلائوں کے دفع کے لئے ایسا کھڑا ہوں جیسا کو ئی شخص لڑائی میں کھڑا ہوتا ہے خدا داد قوت استقلال او ر ثابت قدمی اور صدق و یقین ہتھیاروں سے اور اور عقد ہمت کی پیش قدمی سے اس مبدا نمین خدا تعالیٰ سے کامیابی چاہتا ہوں وہ رحیم وکریم دعائوں کو سننے والا مہربان خدا ہے اس کے فضل سے ہر ایک رحمت کی امید ہے۔ آپ کے کے ملنے کااشتیاق ہے قرنطینہ کی تکلیفات راہ میں نہ ہوں جن کی برادشت مشکل ہوتی ہے تو آپ ہر ایک وقت آسکتے ہیں۔ مجھے دلی خواہش ہے کہ آپ تشریف لاویں۔ مگر یہ دریافت کر لینا چاہئے کہ قرنطینہ کی ایذا رسانی روکیں تو درمیان نہیں ہیں اسی وجہ سے میں نے تار نہیں دیا کہ یہ امور صرف خط کے ذریعہ مفصل طور پر پیش ہو سکتے ہیں امید کہ جس وقت تشریف لاویں تو مجھے تار دیں کہ فلاں وقت روانہ ہوئے۔ میں پہلے اس کے اطلاع دے چکا ہوں کہ میرے پر ایک فوجدار مقدمہ سرکار کی طرف سے دائر ہو گیا ہے۔