مکتوب نمبر ۴۴ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ میں بفضلہ تعالیٰ آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوں آپ ہرگز دل برداشتہ نہ ہوں۔ کیونکہ درحقیقت خدا تعالیٰ مظہر العجائب ہے تاریکی سے روشنی نکال دیتا ہے۔ سب کچھ کر سکتا ہے ہر ایک بات پر قادر ہے سو اس کی طرف جھکتے رہیں او رمجھے ایسے حالات سے خبر دیتے رہیں۔ آپ کے صاحبزادے صاحب کو بشوق السلام۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۷؍ جون مکتوب نمبر ۴۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا میں اس قدر آپ کے لئے دعا میں لگا ہوا ہوں۔ جس کی تفصیل آپ کے پاس کرنا ضروری نہیں خدا وند علیم بہتر جانتا ہے میں آپ کے تار کامنتظر نہیں زیادہ مجھے اس بات کا انتظار ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت کی تار پہنچے یہ حالتیں عسرویسئر کی دنیا میں ہوتی رہتی ہیں مگر بڑی بہادری دولت یہ ہے کہ ایسے تقریبوں سے انسان کو خداتعالیٰ پر زیادہ یقین پیدا ہو جائے جب کہ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں کہ وہ حضرت جلشانہ میں قدر رکھتی ہے تو پھر آپ کو زیادہ تر قلق او رکرب میں رہنا نہیں چاہئے دنیا کے کے محبوب لوگ جن کو خداتعالیٰ سے بلاواسطہ او رنہ بے واسطہ کچھ تعلق ہوتا ہے۔ اگر وہ غموں کے صدموں سے مر بھی جائیں تو کچھ تو عجب نہیں مگر جس یہ تقریب پیش آئے جو آپ کو میسر آئی ہے اس کو غم کرنا اس تقریر کی ناقدر شناسی ہے دنیا تماشا گاہ ہے کبھی انسان عروج میں گویا افلاک تک پہنچتا ہے اور کبھی خاک میں مگر جولوگ خد اکی طرف اور خدا کے بندوں کی طرف جھکتے ہیں وہ ضائع نہیں کئے جاتے ان اللہ لا یضع اجر المحسنین۔ میں ہر ایک رات پیام بشارت کا منتظر ہوں اور میں خدا وند کریم کو جس قدر فی الوقع رحیم کریم دیکھتا ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں بیان کروں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد یکم جولائی ۹۸ء مکتوب نمبر ۴۶ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا میں یہ خط ا س غرض سے رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں کہ میں آپ کے ترودات اور تفکرات او رحالت اضطرا ب سے غافل نہیں ہوں ہر روز رو باسمان ہوں کہ کب خدا تعالیٰ کے فضل سے مشکل کشائی ہوتی ہے او رمیر ایقین او رمیرا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت رحیم اور کریم ہے وہ ضرور دعا سنے گا۔ میں امید رکھتا ہوں کہ آپ زیادہ فکر کرنے سے اس ثواب کو کم نہ کریں جو اس غم کی حالت میں آپ کو ملے گا میں عین دعا کے ساتھ اس خط کو روانہ کرتا ہوں او ر خدا کے فضل ……… پر نظر ہے والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵؍ جولائی ۹۸ء