پہنچتی ہے یہی دلیل اس بات پر ہے کہ اللہ جلشانہ ہر گز آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ حسن من نصراللہ نصرۃ۔ میری طبیعت بہ نسبت سابق اب بہت اچھی ہے۔ غالباً کسی نماز میں بھی آپ دعا سے فراموش نہیں رہتے آپ کے لئے دلی توجہ سے اور خلو ص سے بہت دعا ہو چکی ہے مجھے یقین ہے کہ یہ دعائیں ضرور اپنا اثر دکھائے گی۔ بلکہ جس قدر گھبراہٹ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کوئی صورت تخفیف کی نکالتارہا ہے۔ درحقیقت یہ دعائوں کا اثر ہے وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے امید کہ اپنے حالات سے مجھے جلد جلد خبر دیتے رہیں جب تک قبولیت دعا کے پورے طور پر آثار ظاہر ہوں باقی خیریت ہے۔
والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۵؍ اپریل ۹۸ء
مکتوب نمبر ۳۸
مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
عنایت نامہ پہنچا خیرو عافیت اورآثار خدا تعالیٰ کے فضل کا حال سن کر بہت خوشی ہوئی۔ الحمدللہ علی ذالک۔ اللہ جلشانہ بہت غفور رحیم ہے میں بفضلہ تعالیٰ خیریت ہوں اس طرف طاعون کا بہت زور ہے سنا ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں چند روز ہوئے ہیں میرے بدن پر گلٹی نکلتی تھی پہلے کچھ خوفناک آثار معلوم ہوئے مگر پھر خداتعالیٰ کے فضل سے اس کا زور جاتا رہا یہ ایک جدا ہاتھ میں عذود پھول گئے تھے اور یہ طاعون جوڑوں میں ہوتی ہے پس گوش یاکنج ران یا زیر بغل یا کوئی جوڑ کی جگہ جیسا کہ ہاتھ کے جوڑ یا پیروں کے تپ ساتھ ہوتا ہے۔ ہم خداتعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ ہر ایک طرح ہمارے احباب کو اس بلا سے بچاوے۔
والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۲۵؍ اپریل ۹۸ء
مکتوب نمبر ۳۹
مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کل حالات شروو آپ کے خط سے معلوم ہو گئے۔ اب پھر میں اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے دعا میں توجہ بڑھا دوں گا اور کوشش کروں کہ اللہ تعالیٰ میری دعا کو قبول فرمائے۔ آپ جلد جلد اطلاع بھیجتے رہیں اور بہتر ہے کہ ہرروز مجھے اطلاع دیں زیادہ کیا لکھوں آپ کے تردد سے بہت تشویش میں طبیعت ہے خدا تعالیٰ اس تشویش کو دور فرماوے۔ آمین۔
والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۳؍ مئی ۹۸ء
مکتوب نمبر ۴۰
مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کا عنایت نامہ خیریت شمامہ پہنچا بددریافت فضل الٰہی اور خیرو عافیت بدر گاہ بار یتعالیٰ شکر کیا گیا۔ میں بمع اپنے دوستوں کے اور اہل وعیال کے خیروعافیت سے ہوں۔ اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے اب اسی کے قریب گائوں جن میں زور و شور ہو رہا ہے قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڈھوں کو بھی خفیف سانپ چڑھتا ہے۔ دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے یا ران میں گلٹی نکل آتی ہے ایک گلٹی مجھے بھی نکلی اور پہلے بھی ایک نکلی تھی اور میرے لڑکے بشیر احمد بھی ایک دن تپ چڑھ کر پھر کانوں کے مقابل گال کی طرف گلٹی آئی۔ مولوی صاحب حکیم نورالدین صاحب کے داماد کو بغل کے نیچے گلٹی نکلی میر ناصر نواب صاحب کے لڑکے اسحاق کو کنج ران میں تپ کے بعد گلٹی نکل آئی۔ مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ