دعویٰ میں کاذب ہو اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ شیخ صاحب اب وقت ہے سمجھ جاؤ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شیخی پیش نہیں جائے گی اور اگر کوئی نجومی یا رمال یا جفری اس عاجز کی طرح دعویٰ کر کے کوئی پیشگوئی دکھلا سکتا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو اور چند اخباروں میں درج کرا دو اور یاد رکھو کہ ہر گز پیش نہیں کر سکو گے اور نجومی ہلاک ہوگا خدا تعالیٰ تو اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر وہ ایک قول بھی اپنی طرف سے بتاتا تو اس کی رگ جان قطع کی جاتی پھر یہ کیونکر ہو کہ بجائے رگ جان قطع کی جانے کے اللہ جلشانہٗ اس عاجز کو جو آپ کی نظر میں کافر مفتری دجال کذاب ہے دشمنوں کے مقابل پر یہ عزت دی کہ تائید دعویٰ میں پیشگوئی پوری کرے کبھی دنیا میں یہ ہوا ہے کہ کاذب کی خدا تعالیٰ نے ایسی مدد کی ہو کہ وہ گیارہ برس سے خدا تعالیٰ پر یہ افترا کر رہا ہو کہ اس کی وحی ولایت اور وحی محدثیت میرے پر نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کی رگ جان نہ کاٹے بلکہ اس کی پیشگوئیوں کو پورا کر کے آپ جیسے دشمنوں کو منفعل اور نادم اور لاجواب کر دے اور آپ کی کوشش کا یہ نتیجہ ہو کہ آپ کے تکفیر سے پہلے تو کل ۷۵ آدمی سالانہ جلسہ میں شریک ہوں اور بعد آپ کی تکفیر اورجانکاہی کے روکنے کے تین سَو ستائیس احباب اور مخلص جلسہ اشاعت حق پر دوڑے آویں۔ اب اس سے کیا لکھوں میں اس خط کو انشاء اللہ چھاپ کر شائع کر دوں گا اور مجھے اس ۱؎ الجن: ۲۷، ۲۸ ۲؎ المؤمن: ۲۹ بات کی ضرورت نہیں کہ اس الہامی پیشگوئی کی آزمائش کے لئے بٹالہ میں کوئی مجلس مقرر کرو مناسب ہے کہ آپ بھی اپنے اشاعۃ السنہ میں میرے اس خط کو شائع کر دیں اور یہ بات بھی ساتھ لکھ دیں کہ اب آپ کو قبول کرنے میں کیا عذر ہے جو منصف لوگ دیکھ لیں گے کہ وہ عذر صحیح یا غلط ہے۔ مکرر یہ کہ اللہ جلشانہٗ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں نہ مفتری ہوں نہ دجال نہ کذاب اس زمانہ میں کذاب اور دجال اور مفتری پہلے اس سے کچھ نہیں تھے تا خدا تعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدد کے جو اس کی طرف سے مبعوث ہو ایک دجال کو قائم کر کے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا ہے۔ مگر جو لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں میںان کا کیا کروں۔ میں اس بیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اس ناشناس قوم کے لئے