پیشگوئی پوری ہوگئی یا نہیں اور اگر آپ کے دل کو یہ دھوکہ ہو کہ کیونکر یقین ہو کہ یہ الہامی پیشگوئی ہے کیوں جائز تھیں کہ دوسرے وسائل نجوم و رمل و جعفر سے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ منجموں کی اس طور کی پیشگوئی نہیں ہوا کرتی جس میں اپنے ذاتی فائدہ کے لحاظ سے اس طور کی شرطیں ہوں کہ اگر فلاں شخص ہمیں بیٹی دے گا تو زندہ رہے گا ورنہ نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ بہت جلد مر جائے گا اگر دنیا میں کسی منجم یا رمال کی اس قسم کی پیشگوئی ظہور میں آئی ہے تو اس کے ثبوت کے ساتھ پیش کریں علاوہ اس کے اس پیشگوئی کے ساتھ اشتہار میں ایک دعویٰ پیش کیا گیا ہے یعنی کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔ اب اگرچہ آپ کچھ بھی اللہ جلشانہٗ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت پیش کی گئی ہے اسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعویٰ کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھوکا لگتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جلشانہٗ خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار دے کر فرماتا ہے ۱؎ ۱؎ مومن: ۲۹ اور فرمایا ۔۱؎ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔ پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کے لئے ایک مسلمان کے لئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کو سچی کر کے دکھلا دیا اور اگر آپ کے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دراصل مفتری ہو اور سراسر دروغگوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدد وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دے گا اور کسی دوسرے سے نکاح کر دے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا۔ اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے پوچھے جاؤ گے خداتعالیٰ صاف فرماتا ہے ۲؎سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے