سخت اندوہ گیں ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا ہمارے ہادی و رہنما ان لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان کے دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش ۔اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں خطا نہیں جائیں گی کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں۔ یہ سچ ہے اگر میں اس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا کیونکہ وہ مفتری کو وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دی جاتی ہے۔ میں نے جو ایک پیشگوئی جس پر آپ نے میرے صادق اور کاذب ہونے کا حصر کر دیا آپ کی خدمت میں پیش کی ہے یہی میرے صدق اور کذب کی شناخت کے لئے کافی شہادت ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔ لیکن ساتھ اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے متعلق دوپیشگوئی اور ہیں۔ جن میں اشتہار ۱۰؍ جولائی۱۸۸۸ء میں شائع کر چکا ہوں جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو بیوہ کر کے میری طرف ردّ کرے گا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا یا فلاں وقت تک مر جائے گا مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعویٰ ہیں اوّل نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی پر جو لڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو پوری ہوگئی آپ کا دل نہیں ٹھہرتا تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دے دیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہوگئیں تو اپنے ظنون باطلہ سے توبہ کروں گا اور دعویٰ میں سچا سمجھ لوں گا اور اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کریں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہوگئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے