غلطی کی تھی اس لئے اس عاجز نے پھر آپ کی حالت پر رحم کر کے آپ کو اس الہامی پیشگوئی کے ثبوت کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھا۔ وہ پیشگوئی جیسا کہ آپ خود اپنے خط میں بیان کر چکے ہیں۔ یہی تھی کہ اگر مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری اپنی بیٹی اس عاجز کو نہ دیوے اور کسی سے نکاح کر دیوے تو روز نکاح سے تین برس کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اس پیشگوئی کی یہ بنیاد نہیں تھی کہ خواہ مخواہ مرزا احمد بیگ کی درخواست سے گئی تھی بلکہ یہ بنیاد تھی کہ یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ بھی ایک تھا۔ اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے سخت مخالف تھے ایک ان میں سے عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اللہ جلشانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذہب دہریہ رکھتا تھا اور نشان کے طلب کے لئے ایک اشتہار بھی جاری کر چکا تھا اور یہ سب کو مکار خیال کرتے تھے اور نشان مانگتے تھے اور صوم و صلوٰۃ اور عقاید اسلام پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان پر اپنی حجت پوری کرے۔ سو اس نے نشان دکھلانے میں وہ پہلو اختیار کیا جس کا ان تمام بیدیں قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا۔ خدا ترس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ موت اور حیات انسان کے اختیار میں
۱؎ النمل: ۶۰
نہیں اور ایسی پیشگوئی جس میں ایک شخص کی موت کو اس کی بیٹی کے نکاح کے ساتھ جو غیر سے ہو وابستہ کر دیا گیا اور موت کی حد مقرر کر دی گئی۔ انسان کا کام نہیں ہے چونکہ یہ الہامی پیشگوئی صاف بیان کر رہی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی موت اور حیات اس کی لڑکی کے نکاح سے وابستہ ہے اس لئے پانچ برس تک یعنی جب تک اس لڑکی کا نکاح کسی دوسری جگہ نہیں کیا گیا مرزا احمد بیگ زندہ رہا اور ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء میں احمد بیگ نے اس لڑکی کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور بموجب پیشگوئی کے تین برس کے اندر یعنی نکاح کے چوتھے مہینہ میں جو ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء تھی فوت ہو گیا اور اسی اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگرچہ روز نکاح سے موت کی تاریخ تین برس تک بتلائی گئی ہے مگر دوسرے کشف سے معلوم ہوا کہ کچھ بہت عرصہ نہیں گذرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نکاح اور موت میں صرف چار مہینہ بلکہ اس سے کم فاصلہ رہا یعنی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء میں نکاح ہوا اور ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو مرزا احمد بیگ اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا اب ذرا خدا سے ڈر کر کہیں کہ یہ