قولہ: اس صورت میں قادیان پہنچ سکتا ہوں کہ مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اقول: اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کر دی ہیں اور اللہ جلشانہٗ کی قسم بھی دی ہے کہ آپ آسمانی طریق سے میرے ساتھ صدق اور کذب کا فیصلہ کر لیں۔ اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھنے میں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے اور کچے اور بیہودہ عذرات سے ٹال دیں گے اور میں آپ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا ایک ہی ہے جو آپ کو در حالت نہ باز آنے کے ہلاک کرے گا اور اپنے دین کو آپ کے اس فتنہ سے نجات دے گا اور آپ کے قادیان آنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ اگر آپ اللہ اور رسول کے نشان کے موافق آزمائش کیلئے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آ سکتا ہوں تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔ جواب الجواب شیخ بٹالوی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۔۱؎ اما بعد آپ کا رجسٹری شدہ خط مؤرخہ ۴؍ جنوری ۱۸۹۳ء کو مجھ کو ملا۔ اگرچہ آپ کا یہ خط جو کذب اور تہمت اور بیجا افتراؤں کا مجموعہ ہے اس لائق نہیں تھا کہ میں اس کا جواب آپ کو لکھتا فقط اعراض کافی تھا لیکن چونکہ آپ نے اپنے خط کے صفحہ دو اور تین میں اس عاجز کی تین پیشگوئیوں کا ذکر کر کے بالآخر اس تیسری پیشگوئی پر حصر کر دیا ہے جو نور افشاں دہم مئی ۱۸۸۸ء اور نیز میرے اشتہار مشتہرہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں درج ہے اور آپ نے اقرار کیا ہے کہ اگر اس الہام کا سچا ہونا ثابت ہو جاوے تو آپ کو ملہم مان لوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ میں نے آپ کے عقائد و تعلیمات کو مخالف حق اور آپ کو بد اخلاق اور گمراہ سمجھنے میں