تو کیا بُرا کیا آخر ۱؎ کا بھی تو ایک وقت ہے۔
آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کے فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لے کر خوردبرد کر گیا ہے یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں اگر براہین طبع ہو کر شائع ہوگئی تو اس دن
۱؎ التوبہ: ۷۳
شرم کا تقاضا نہیںہوگا۔ کہ آپ غرق ہو جائیں ہر یک دیر بدظنی پر مبنی نہیںہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر ایک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سار وپیہ واپس بھی کر دیا۔ قرآن کریم جس کی خلق اللہ کو بہت ضرورت تھی اور لوح محفوظ میں قدیم سے جمع تھا۔ تئیس سال میں نازل ہوا اور آپ جیسے بدظنیوں کے مارے ہوئے اعتراض کرتے رہے۔ کہ ۱؎
قولہ: جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیا ہے اس دن سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی تصنیف جھوٹ سے خالی نہیں۔
اقول: اے شیخ نامہ سیاہ اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اور کیا لکھوں خدا تعالیٰ تجھ کو آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا۔ اے بدقسمت انسان تو ان بہتانوں کے ساتھ کب تک جئے گا کب تک تو اس لڑائی میں جو خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے موت سے بچتا رہے گا اگر مجھ کو تو نے یا کسی نے اپنی نابینائی سے دروغگو سمجھا تو یہ کچھ نئی بات نہیں آپ کے ہم خصلت ابوجہل اور ابولہب بھی خدا تعالیٰ کے نبی صادق کو کذاب جانتے تھے انسان جب فرط تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے تو صادق کی ہر ایک بات اس کو کذب ہی معلوم ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ صادق کا انجام بخیر کرتا ہے اور کاذب کے نقش ہستی کو مٹا دیتا ہے۔ ۲؎
قولہ: کہ (آپ نے) بحث سے گریز کر کے انواع اتہام اور اکاذیب کا اشتہار دیا۔
اقول: یہ سب آپ کے دروغ بے فروغ ہیں جو بباعث تقاضاء فطرت بے اختیار آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں ورنہ جو لوگ میری اور آپ کی تحریروں کو غور سے دیکھتے ہیں وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا اتہام اور کذب اور گریز اس عاجز کا خاصہ ہے یا خود آپ ہی کا