چالاکی کی باتیں اگر آپ نہ کریں تو اور کون کرے ایک تو قانون گو شیخ ہوئے ۔ دوسرے چار حرف پڑھنے کا دماغ میں کیڑا مگر خوب یاد رکھو وہ دن آتا ہے کہ خود خداوند تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں کون کاذب اور مفتری اور خدا کی نظر میں ذلیل اور رسوا ہے اور کس کی خداوند کریم آسمانی تائیدات سے عزت ظاہر کرتا ہے۔ ذرہ صبر کرو اور انجام کو دیکھو۔ ۱؎ الفرقان: ۳۳ ۲؎ النحل: ۱۲۹ قولہ: آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے آپ کے دعویٰ مسیحائی سے اپنا خلاف ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے۔ اقول: اے حضرت آپ کو آنے سے کس نے منع کیا تھا یا میری ڈیوڑھی دربان تھے جنہوں نے اندر آنے سے روک دیا پہلے اس سے آپ پوچھ پوچھ کر آیا کرتے تھے آپ کے تو والد صاحب بھی بیماری کی حالت میں بھی بٹالہ سے افتان خیزان میرے پاس آجاتے تھے۔ پھر آپ کو نئی روک کونسی پیش آ گئی تھی اور جب کہ آپ اپنے ذاتی بخل اور ذاتی حسد اور شیخ نجدی کے خصائل اور کبر اور نخوت کو کسی حالت میں چھوڑانے والے نہیں تھے تو میں آپ کو مکان پر بلا کر کیا ہمدردی اور رحمت کرتا۔ ہاں میں نے آپ کے مکان پر بھی جانا خلاف مصلحت سمجھا کیونکہ میں نے آپ کی مزاج میں کبر اور نخوت کا مادہ معلوم کر لیا تھا اور میرے نزدیک یہ قرین مصلحت تھا کہ آپ کو ایک مسہل دیا جائے اور جہاں تک ہو سکے وہ مادہ آپ کے اندر سے باستیفا نکال دیا جائے سو اب تک تو کچھ تحفیف معلوم نہیں ہوتی۔ خدا جانے کس غضب کا مادہ آپ کے پیٹ میں بھرا ہوا ہے اور اللہ جلشانہٗ جانتا ہے کہ میں نے آپ کی بدزبانی پر بہت صبر کیا۔ بہت ستایا گیا اور آپ کو روکے گیا اور اب بھی آپ کی بدگوئی اور تکفیر پر بہرحال صبر کر سکتا ہوں لیکن بعض اوقات محض اس نیت سے پیرایہ درشتی آپ کی بدگوئی کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہوں کہ تا وہ مادہ خبث کا جو مولویت کے باطل تصور سے آپ کے دل میں جما ہوا ہے اور جن کی طرح آپ کو چمٹا ہوا ہے وہ بکلی نکل جائے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اعلیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتا