ہاں مقدمہ بازی آپ کے والد صاحب کی جائے جرح ہو تو کچھ تعجب نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ انگریزی عملداری میں اکثر سود خوروں کی مختار کاری میں ان کی عمر بسر ہوئی اور جس طرح بن پڑا انہوں نے بعض لوگوں کے مقدمے محنتانہ پر لئے گو وہ قانونی طور پر مختار نہ وکیل بلکہ فیل شدہ بھی نہیں تھے مگر پیٹ بھرنے کیلئے سب کچھ کیا لیکن یہ عاجز تو بجز اپنی زمینداری کے مقدمات کے جن میں اکثر آپ کے والد صاحب جیسے بلکہ عزت اور لیاقت میں ان سے بڑھ کر مختار بھی کئے ہوئے تھے دوسروں کے مقدمات سے بھی کچھ غرض نہیں رکھتا تھا اور مجھ کو یاد ہے بلکہ آپ کو بھی یاد ہوگا کہ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب نے بھی مقام بٹالہ میں حضرت مرزا صاحب مرحوم کی خدمت میں اپنی تمنا ظاہر کی تھی کہ مجھ کو بعض مقدمات کیلئے نوکر رکھا جاوے تا بطور مختار عدالتوں میں جاؤں مگر چونکہ زمینداری مقدمات کی پیروی کی ان میں لیاقت نہیں تھی اس لئے عذر کر دیا گیا تھا۔
قولہ: آپ نے الہامی بیٹا تولد ہونے کی پیشگوئی کی یعنی جھوٹ بولا۔
اقول: آپ اپنے سفلہ پنے سے باز نہیں آتے خدا جانے آپ کس خمیر کے ہیں۔ اس پیشگوئی میں کونسی دروغ کی بات نکلی اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ پیشگوئی کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا اور مر گیا تو کیا آپ یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ کسی الہام میں یہ مضمون درج تھا کہ وہ موعود لڑکا وہی ہے اگر دے سکتے ہیں تو وہ الہام پیش کریں یاد رہے کہ ایسا کوئی الہام نہیں۔ ہاں اگر میں نے اجتہادی طور پر کہا ہو کہ شاید یہ لڑکا وہی موعود لڑکا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ الہام غلط نکلا آپ کومعلوم نہیں کہ کبھی ملہم اپنے الہام میں اجتہاد بھی کرتا ہے اور کبھی وہ اجتہاد خطا بھی جاتا ہے مگر اس سے الہام کی وقعت اور عظمت میں فرق نہیں آتاصد ہا مرتبہ ہر یک کو اتفاق پیش آتا ہے۔ کہ ایک خواب تو سچی ہوتی ہے مگر تعبیر میں غلطی ہو جاتی ہے یہ ہدایت اور یہ معرفت کا دقیقہ تو خاص قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے لیکن ان کے لئے جو آنکھیں رکھتی ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ آج تو آپ نے مجھ پر اعتراض کیا کبھی ایسا نہ ہو کہ کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کر دیں اور کہیں کہ آنجناب نے جس وحی کی تصدیق کیلئے یعنی طواف کی غرض سے دو سَو کوس کا سفر اختیار کیا تھا وہ طواف اس سال نہ ہو سکا اور اجتہادی غلطی ثابت ہوئی افسوس کہ فرط تعصب سے