درخت کاٹ لیتی تھیں یا بعض دیہات کے نمبرداروں سے تعلق داری کے حقوق بذریعہ عدالت وصول کرنے پڑتے تھے اور وہ سب مقدمات بوجہ اس احسن انتظام کے کہ محاسب دیہات یعنی پٹواری کی شہادت اکثر ان میں کافی ہوتی تھی۔ پیچیدہ نہیں ہوتی تھی اور دروغگوئی کو ان سے کچھ تعلق نہیں تھا کیونکہ تحریرات سرکاری پر فیصلہ ہوتا تھا اور چونکہ اس زمانہ میں زمین کی بیقدری تھی۔ اس لئے ہمیشہ زمینداری میں خسارہ اُٹھانا پڑتا اور بسا اوقات کم مقدمات کاکاشتکاروں کے مقابل پر خود نقصان اُٹھا کر رعایت کرنی پڑتی تھی اور عقلمند لوگ جانتے ہیں کہ ایک دیانتدار زمیندار اپنے کاشتکاروں سے ایسے برتاؤ رکھ سکتا ہے جو بحیثیت پورے متقی اور کامل پرہیز گار کے ہو اور زمینداری اور نیکوکاری میں کوئی حقیقی مخالفت اور ضد باایں ہمہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد کبھی میں نے بجز اس خط کے مقدمہ کے جس کا ذکر کرچکا ہوں کوئی مقدمہ کیا ہو اگر میں مقدمہ کرنے سے بالطبع متنفر نہ ہوتا میں والد صاحب کے انتقال کے بعد جو پندرہ سال کا عرصہ گذر گیا آزادی سے مقدمات کیا کرتا اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ ان مقدمات کا مہاجنوں کے مقدمات پر قیاس کرنا کور باطن آدمیوں کا کام ہے۔ میں اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ کئی پشت سے میرے خاندان میں زمینداری چلی آتی ہے اور اب بھی ہے اور زمیندار کو ضرورتاً کبھی مقدمہ کی حاجت پڑتی ہے مگر یہ امر ایک منصف مزاج کی نظر میں جرح کا محل نہیں ٹھہر سکتا۔ حدیثوں کو پڑھو کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والا اور اس زمانہ میں آنے والا کہ جب قریش سے بادشاہی جاتی رہے گی اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک تفرقہ اور پریشانی میں پڑی ہوئی ہوگی۔ زمیندار ہوگا اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ میں ہوں احادیث نبویہ میں صاف لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک موید دین و ملت پیدا ہوگا اور اس کی یہ علامت ہوگی کہ وہ حارث ہوگا یعنی زمیندار ہوگا۔ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ اس کو قبول کر لیوے اور اس کی مدد کرے۔ اب سوچو کہ زمیندار ہونا تو میرے صدق کی ایک علامت ہے نہ جائے جرح اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول کرنے کے لئے حکم ہے نہ ردّ کرنے کیلئے چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نمائد ہنرش در نظر ۔